کالمز

قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ: علامہ خادم حسین رضوی کے مرشدِ گرامی | سوانح و خدمات

مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا:

ہیچ چیزے خود بہ خود چیزے نہ شد

ہیچ آہن خود بہ خود تیغے نہ شد

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم

تا غلامِ شمسِ تبریزے نہ شد

یعنی کوئی بھی چیز خود بخود درجۂ کمال کو نہیں پہنچ سکتی۔ لوہا اپنے اندر تلوار بننے کی صلاحیت تو رکھتا ہے مگر خود بخود تلوار نہیں بن جاتا۔ یونہی مولوی اپنے علم میں بڑا مرتبہ و منزلت رکھتا ہے مگر اس وقت تک وہ بھی مولائے روم نہیں بنتا جب تک کسی شمسِ تبریز جیسی ہستی کی غلامی میں نہ آ جائے۔ یونہی ہیرا اپنی ذات میں بڑی قدر و قیمت رکھنے کے باوجود بازار میں اپنی اصل قیمت نہیں لگوا سکتا جب تک کسی ماہر جوہری کے ہاتھ سے نہ تراشا جائے۔

قبلہ حضور سیدنا امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ رب العزت نے وہ دل عطا فرمایا تھا جو عشقِ مصطفی ﷺ کی کاشت کے لیے زرخیز تھا۔ انہیں ضرورت تھی تو بس ایک ماہر کسان کی، جو اس زرخیز قلب پر عشقِ مصطفی ﷺ کی فصل کے لیے پانی لگا دے۔ علامہ رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت وہ انمول ہیرا تھی جسے کسی ماہر جوہری کی تراش چار چاند لگا سکتی تھی۔تو وہ شخصیت جس نے علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی باطنی تربیت فرمائی، جس نے دورِ طالبِ علمی سے ان پر خاص توجہ فرما کر تیار کرنا شروع کیا، اور ایسا دُرِ یکتا تیار کر ڈالا کہ آج دنیا دنگ ہے۔ یہ ہستی علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد کی ہے۔ یہ وہی شخصیت ہیں جن سے امیرالمجاہدین رحمۃ اللہ علیہ شدید محبت و عقیدت رکھتے تھے، اور ادب کا یہ عالم تھا کہ فرماتے:

"حضرت جی کے سامنے تو آپ کے ادب کی وجہ سے سانس بھی احتیاط سے لیتا ہوں۔"

اور جہلم شہر میں داخل ہوتے تو آواز پست رکھتے کہ یہ میرے مرشدِ گرامی کا شہر ہے۔ قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب تک حیات تھے تو حضور سیدنا امیر المجاہدین رحمۃ اللہ علیہ خطاب کی تاریخ دیتے ہوئے فرماتے: "تمہاری یہ تاریخ پکی ہے، بشرطیکہ اس تاریخ کو میرے حضرت جی کی طرف سے بلاوا نہ آ گیا۔ اگر بلاوا آ گیا تو آپ کا پروگرام کینسل۔"

واہ! تو نے خرید کر انمول کر دیا

آئیے اس عظیم ہستی کا تفصیلی تذکرہ پڑھتے ہیں

1. ولادت، نام و نسب اور حصولِ تعلیم

نام و نسب: وحیدُ الدہر، فریدُ العصر حضرت علامہ قاضی محمد عبد الواحد صدیقی نقشبندی المعروف حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کا نسب ۳۸ واسطوں سے خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔

ابتدائی تعلیم و حفظ: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ناظرۂ قرآنِ پاک اور اسکول کی بنیادی تعلیم کے بعد حفظِ قرآنِ پاک کیا، اور تقریباً تیرہ سال کی عمر میں پہلا مصلّٰی خانقاہِ سلطانیہ (جہلم) میں سنایا۔

پندرہ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی تعلیم شروع فرمائی اور تقریباً چھبیس سال کی عمر میں گلستانِ محدثِ اعظمِ پاکستان، جامعہ رضویہ (فیصل آباد) میں شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے استاذ حضرت شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ سے سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی۔

2. ذوقِ عبادت اور مجاہداتِ شاقہ

قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ بچپن سے ہی عبادت کا شوق رکھتے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا ذوقِ عبادت حیرت انگیز تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے چار سال کی عمر میں نمازِ پنجگانہ کی باجماعت ادائیگی شروع فرما دی تھی، چھ سال کی عمر میں حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور اسی وجہ سے "حاجی پیر" کے نام سے مشہور ہو گئے۔ تقریباً نو سال کی عمر سے تہجد و اشراق کی پابندی شروع فرما دی تھی۔ کثرتِ عبادت و طویل مجاہدات سے آپ کا جسم لاغر ہو گیا، مگر آپ کے شوقِ عبادت کے مقابل جسمانی کمزوری رکاوٹ نہ بن سکی۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کثرتِ عبادت کو دیکھ کر آپ کے والد اور پیر و مرشد، پیرِ طریقت، واقفِ اسرارِ حقیقت حضرت خواجہ پیر محمد صادق نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ (کوٹلی، آزاد کشمیر) فرمایا کرتے تھے:

اس عمر میں اس قدر عبادت کو دیکھ کر ہمیں رشک آتا ہے۔

3. بیعت، سلوکِ نقشبند اور خلافت

قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ میں بچپن سے ولایت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جس عمر میں بچوں کو کھیل کود اور کھلونوں کا شوق ہوتا ہے، اس عمر میں آپ کو ذکرِ الٰہی، نماز و تسبیح کا شوق تھا۔ آپ میں قربِ الٰہی کی تڑپ اور ذکرِ الٰہی کا یہی جذبہ تھا جسے دیکھ کر آپ کے والد و شیخِ طریقت نے از خود آپ کو بیعت فرمایا اور اسباقِ طریقت شروع فرما دیے۔

اس وقت قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عمرِ مبارک اٹھارہ سال تھی۔ شوقِ عبادت شروع سے تھا، قربِ الٰہی کا جذبہ بھی تھا، اکلِ حلال و صدقِ مقال کی نعمت بھی میسر تھی، طہارتِ قلب و فکر بھی بچپن سے حاصل تھی، پیر و مرشد بھی کامل تھے، تو پھر منزلِ مقصود تک پہنچنا دشوار تو نہ تھا، مگر سونے کو قندن کرنا ہو تو بھی بھٹی سے گزارنا پڑتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ طریقت کے حکم پر طویل مجاہدات کیے۔ ایک ایک وقت میں پچیس پچیس ہزار بار اسمِ ذات کا ذکر کرتے، دیگر وظائف پڑھتے۔ اگرچہ آپ مسلسل مجاہداتِ شاقہ کے باعث لاغر ہو گئے، مگر پوری استقامت کے ساتھ آپ نے سلوک طریقت کی تکمیل فرمائی، اور یومِ عرفہ ۹ ذی الحجہ ۱۳۹۶ھ، بمطابق یکم دسمبر ۱۹۷۶ء، بروز بدھ، خواجۂ عالم حضرت پیر محمد صادق نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنی خلافت و نیابت سے نوازا۔

4. حلیہ مبارک، لباس اور اخلاق و عادات

حلیہ مبارک: حضر ت قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ خوبصورت اور وجیہ تھے۔ رنگ سفید، سرخی مائل تھا۔ بلند و کشادہ پیشانی، بڑی بڑی پرکشش آنکھیں، جن میں معنی خیز چمک ہوا کرتی تھی۔ جب آپ اپنی پُرکشش نگاہ احبابِ طریقت پر ڈالتے تو کسی کو نگاہ ملانے کی تاب نہ ہوتی۔ جسمِ مبارک مضبوط و سڈول اور اعضاء متناسب و متوازن تھے۔ داڑھی گھنی اور ایک مشت سے زائد تھی۔ چہرے پر ہر وقت ہلکی مسکراہٹ رہتی تھی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ جمال ضرور تھے، مگر اس جمال کے ساتھ جلال کا حسین امتزاج تھا۔

لباس و نفاست : قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزاج میں کمال سادگی و نفاست تھی، اور یہی سادگی و نفاست آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ہر عمل سے جھلکتی تھی۔ آپ کا لباس نہایت اعلیٰ اور نفیس ہوتا۔ عموماً کرتا اور تہبند استعمال فرماتے۔تہبند اکثر بنگالی لنگی کا ہوتا۔ سر پر اکثر عمامہ ہوتا، جو کہ عموماً سفید رنگ کا ہوتا، البتہ بعض اوقات زعفرانی یا سیاہ عمامہ بھی استعمال فرماتے۔ عمامہ سادگی سے گولائی میں باندھتے، جس کا مختصر شملہ بائیں کندھے کی طرف نکالتے، اور کپڑے سے بنی پانچ کلیوں والی (نقشبندی) ٹوپی استعمال فرمایا کرتے تھے۔

اخلاق و عادات : آپ رحمۃ اللہ علیہ نہایت عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی ملاقات میں ہی بندہ آپ کے حسنِ اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا۔ ہر شخص کو بڑی خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہتے، محبت و شفقت فرماتے۔ پہلی بار آنے والوں کو بھی آپ کی مجلس میں اجنبیت محسوس نہ ہوتی۔ پریشان حال بندہ آپ کی مجلس میں چند لمحے بیٹھ جاتا تو ایسا قلبی اطمینان نصیب ہوتا کہ ساری پریشانیاں بھول جاتا۔ آپ بہت سادہ انداز میں معنی خیز گفتگو فرماتے۔ آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے دل دنیا سے بے رغبت اور ذکرِ الٰہی سے معمور ہو جایا کرتا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے لیے قیام پسند نہ فرماتے تھے۔ احبابِ طریقت کو اپنے آنے پر کھڑے ہونے سے منع فرماتے، البتہ جب آپ سے ملاقات کی غرض سے عالی مرتبت علماء و مشائخ میں سے کوئی تشریف لاتے تو آپ کھڑے ہو کر انہیں عزت دیتے۔

مہمان نوازی :آپ رحمۃ اللہ علیہ کا دسترخوان، بفضلِ الٰہی، بڑا وسیع تھا۔ ایک ایک وقت میں سینکڑوں افراد لنگر میں شریک ہوا کرتے تھے، مگر آپ رحمۃ اللہ علیہ اسی دسترخوان سے احبابِ طریقت کے بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑے اور بچے ہوئے چاول تناول فرما لیا کرتے تھے۔

طلبہ پر شفقت:طلبہ سے نہایت شفقت فرماتے تھے۔ انہیں محنت سے علم حاصل کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے:

"آپ کی ضروریات میں پوری کروں گا، آپ بے فکر ہو کر پوری توجہ سے علمِ دین حاصل کریں اور دین کی خدمت کریں۔"

حتیٰ کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ دورانِ سفر جہاں کوئی مدرسہ دیکھتے تو تشریف لے جاتے اور طلبہ کو اور ان کے اساتذہ کو مختلف تحائف عنایت فرماتے۔

پیشہ ور گداگر اگر آپ سے سوال کرتے تو آپ انہیں فرماتے:

"اگر ضرورت مند ہو تو ہمارے ساتھ چلو، ہم تمہیں رہائش بھی دیں گے اور کھانا بھی، اور کوئی کام بھی نہیں کروائیں گے۔"

سخاوت: آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آپ کے مریدین مختلف ممالک سے قیمتی تحائف بھیجا کرتے تھے، تو آپ اپنے مدارس کے طلبہ، اساتذہ یا کسی بھی خادم کو عنایت فرما دیتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی جود و سخا کی شان ہی نرالی تھی۔ ایسا بھی ہوا کہ آپ مہمان کو رخصت کرتے ہوئے ایک اورایک ایک کر کے تحفے دیتے گئے، حتیٰ کہ اپنے ہاتھ سے گھڑی تک اتار کر عطا کر دی۔ اسی طرح اگر کوئی آپ کے پاس موجود کسی چیز کی تعریف کرتا تو آپ وہ چیز اسے عنایت فرما دیتے۔

5. شہرت سے گریز، انکساری اور احترامِ نسبت

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے زیرِ انتظام پاکستان و آزاد کشمیر میں کئی مساجد و مدارس کام کر رہے ہیں، جن کے تمام اخراجات آپ ہی اٹھایا کرتے تھے، مگر کسی مسجد یا مدرسہ میں آپ کے نام کی تختی نہیں لگی ہوئی۔ آپ اسے ناپسند فرماتے تھے۔

عاجزی و انکساری :ایک دفعہ بعض احبابِ طریقت نے ایک اسکول کھولا اور اس کے اشتہار پر "زیرِ سرپرستی" کے آگے آپ کا نام لکھ دیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو خبر ہوئی تو شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ ان احباب کو معلوم ہوا تو وہ بھی حاضرِ خدمت ہوئے اور معذرت کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

"ہمارے زیرِ انتظام جو مدارس چل رہے ہیں، اُن پر ہمارا نام نہیں لکھا ہوا، تو آپ نے کیوں لکھوایا؟"

پھر فرمایا کہ معافی کی یہی صورت ہے کہ جہاں جہاں اشتہارات لگائے گئے ہیں وہاں سے اُتار لیے جائیں۔

اسی طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ کے زیرِ انتظام مساجد میں جمعۃ المبارک کے خطبہ میں آپ کے حوالے سے اشارتاً بات کرنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ اگر کوئی ایسا کرتا تو قبلہ جی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے سخت باز پرس کی جاتی تھی۔

مخلوق سے استغناء کا یہ عالم تھا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو یہ بات بھی ناپسند تھی کہ آپ کا کوئی مرید کسی اور شخص کو آپ سے بیعت ہونے کی ترغیب دے یا اس غرض سے آپ کے پاس لے کر آئے۔

یہی وجہ ہے کہ قبلہ حضور سیدنا امیر المجاہدین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی شدید عقیدت و محبت کے باوجود اپنے خطابات میں آپ کے تذکرے سے ہمیشہ گریز کیا۔ اور اس حوالے سے قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے اپنے اس مریدِ خاص کو مزید کیا ہدایات تھیں، یہ ایک راز ہے۔

نسبت کا احترام : حضرت قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا ایک خاص اور اہم پہلو ادب تھا۔ بالخصوص رسول اللہ ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر شے کا والہانہ ادب کیا کرتے تھے۔

مدینۂ طیبہ کی محبت و تعظیم:ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ علیہ ایک سفر پر روانہ ہوئے۔ ساتھ ایک سنگی (مرید) تھا۔ آپ نے ایک کھجور خود تناول فرمائی اور ایک کھجور سنگی کو بھی عنایت فرمائی، اور دیتے ہوئے فرمایا:

"یہ مدینۂ شریف کی کھجور ہے۔"

اس سنگی نے کھجور کھا کر گٹھلی گاڑی سے باہر پھینک دی۔ یہ دیکھ کر آپ کی طبیعت متغیر ہو گئی۔ آپ نے نہایت جلال بھرے انداز میں فرمایا:

"میں نے بتایا بھی تھا کہ یہ مدینۂ شریف کی کھجور ہے، تو پھر گٹھلی کیوں پھینکی؟"

پھر آپ نے گاڑی رکوائی اور جس سفر پر روانہ ہوئے تھے، اسے ملتوی فرما کر واپس تشریف لے آئے۔

6. ہمہ جہت دینی و رفاہی خدمات

قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ آپ نے دینی، معاشرتی اور سماجی ہر شعبہ میں اپنے اَنمٹ نقوش ثبت فرمائے ہیں۔ مختصراً درج ذیل ہیں:

(۱) مساجد و مدارس:آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پاکستان و آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں عالی شان مساجد و مدارس کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم فرمایا، جن میں حفظِ قرآن، تجوید و قراءت اور درسِ نظامی کے شعبہ جات قائم فرمائے۔ ان کے تمام اخراجات آپ خود برداشت کیا کرتے تھے۔ اور کمال یہ کہ کسی مسجد و مدرسہ میں نہ تو چندے کی اپیل کی جاتی ہے، نہ چندہ بکس رکھا جاتا ہے، اور نہ ہی تشہیر کے دیگر ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔

(۲) حفاظ، قراء و علماء کی کھیپ:آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مدارس سے ایک کثیر تعداد میں حفاظ، قراء اور علماء تیار ہوتے۔ پھر ان میں سے منتخب افراد کو آپ مزید تعلیم اور مختلف علوم و فنون میں مہارت کے لیے دیگر جامعات میں بھیجتے، اور بعض افراد کو بیرونِ ملک مشہور دینی جامعات میں تعلیم کے لیے بھیجتے، اور ان کے تمام اخراجات خود اٹھاتے۔ اس طرح آپ نے ملک و دینِ متین کی خدمت کے لیے ماہرینِ علوم و فنون کی ایک جماعت تیار فرمائی، جس میں قابل مدرس بھی ہیں، محقق بھی ہیں، اور بہترین مصنف بھی۔

(۳) کتب بینی اور اشاعت:آپ رحمۃ اللہ علیہ کو کتب سے دلی لگاؤ تھا۔ آپ مطالعہ کا اچھا ذوق رکھتے تھے اور اپنے ساتھ مطالعہ کے لیے کتابیں رکھا کرتے تھے۔ تفسیر، حدیث، فقہ کی کتب کے علاوہ تجوید و قراءت اور طب کی کتب کا بھی مطالعہ فرماتے۔ روحانی طبیب ہونے کے ساتھ آپ ایک حاذق حکیم اور جسمانی معالج و طبیب بھی تھے۔

آپ کے پاس ہر فن اور علم کی بکثرت کتب موجود تھیں، جو اب خانقاہِ سلطانیہ (جہلم) کی وسیع لائبریری کا حصہ ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ عقائد، سیرت اور مختلف اعمال و مسائل کی کتب کی اشاعت پر زرِ کثیر صرف فرماتے، اور یہ کتب اہلِ علم حضرات کو تحفۃً بھجوایا کرتے۔ اور آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کئی کتب کو دیگر زبانوں سے اردو میں ترجمہ کروا کر بھی شائع کروایا۔

(۴) نادار افراد کی کفالت:آپ نے نادار افراد کی کفالت فرمائی، رہائش کے لیے مکانات بنوا کر دیے، ان کے بچوں اور بچیوں کی شادیاں کروائیں، اور دیگر ضروریات کو پورا فرماتے رہے۔ آپ نے مختلف مقامات پر عامۃ الناس کے لیے مفت علاج کی سہولیات بھی مہیا فرمائیں۔

(۵) اصلاحِ معاشرہ:سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے بے لوث ہو کر اخلاص و للہیت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کے لیے بھرپور کردار ادا فرمایا۔ اپنے متعلقین کو شریعتِ مطہرہ پر چلنے کا جذبہ عطا فرمایا۔ ہزاروں افراد کو گمراہی اور فسق و فجور سے نکال کر نیکی و پارسائی کا خوگر بنایا۔

7. صاحبِ کرامت ولی

آپ رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ کرامت ولیِ کامل تھے۔ ایک ایسی کرامت جو آپ کی مجلس میں عموماً ظاہر ہوتی، وہ آپ کا کشفِ صدور تھا۔ دلوں میں اٹھنے والے خیالات آپ پر منکشف ہو جایا کرتے تھے، اور آپ دورانِ گفتگو اشارتاً اس کے متعلق ارشاد فرما دیا کرتے تھے۔

کشفِ صدور کا واقعہ:سرائے عالمگیر کے ایک اسکول کے ماسٹر صاحب آپ سے ملاقات کی غرض سے حاضر ہوئے۔ آپ نے نہایت ہی شفقت سے پاس بٹھایا اور گفتگو فرماتے رہے۔ ماسٹر صاحب کا بیان ہے کہ میرے دل میں بار بار تین باتوں کا خیال آ رہا تھا:

(۱) آپ اپنے ہاتھِ مبارک سے کوئی وظیفہ لکھ کر عنایت فرمائیں۔

(۲) پڑھنے کے لیے کچھ اور عطا فرمائیں۔

(۳) آپ کی گاڑی میں سیٹ پر ایک قیمتی اور خوبصورت لنگی پڑی تھی، وہ مجھے عنایت فرما دیں تاکہ میں نمازِ جمعہ کے لیے سر پر باندھ لیا کروں۔

دورانِ گفتگو قبلہ حاجی پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا:

"جو پنسل آپ کی جیب میں ہے، کیا وہ لکھتی ہے؟"

ماسٹر صاحب نے اثبات میں جواب دیا، تو آپ نے وہ پنسل لی اور ایک کاغذ پر اپنے ہاتھ سے وظیفہ لکھ کر دیا اور فرمایا:

"ماسٹر صاحب! کوٹلی والے حضرت خواجۂ عالم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ وظیفہ مجھے عنایت فرمایا تھا، آپ بھی پڑھا کریں۔"

پھر آپ نے گاڑی سے لنگی اٹھا کر ماسٹر صاحب کو عنایت فرمائی اور ساتھ فرمایا:

"جمعہ کی نماز ادا کرتے وقت اسے سر پر باندھ لیا کریں۔"

8. وصالِ مبارک

۱۱ جمادی الثانی ۱۴۳۴ھ، بمطابق ۲۲ اپریل ۲۰۱۳ء، بروز پیر، آزاد کشمیر سے واپسی پر دورانِ سفر آپ تسبیح پڑھ رہے تھے کہ تسبیح سے آپ کے ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑی اور آپ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

آپ کا مزارِ پُرانوار خانقاہِ سلطانیہ (جہلم) میں مرجعِ خلائق ہے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0